چمنِ دنیا

یہ دیس یہ شہر یہ سارے تیرے اپنے ہیں

عرش و فرش کے مینارے تیرے اپنے ہیں

تو جان لے طریقہ اگر طوفان سے نکلنے کا

یہ بحرِ بیکراں یہ کنارے تیرے اپنے ہیں

تو اگر تسلیم کرے خالق کو مخلوق کو

سب فرشتوں کے سہارے تیرے اپنے ہیں

جو ہے فرش پہ عرش پہ سبھی تیرا ہے

چراغ جگنو اور ستارے تیرے اپنے ہیں

یہ موتیے گلاب پھول رات کی رانی کے

رنگ خوشبو سے نکھارے تیرے اپنے ہیں

نسلِ انسان سے تخلیق جو پریوں جیسی

چہرے قدرت کے سنوارے تیرے اپنے ہیں

تو جنہیں جنگ کے شعلوں میں جلانا چاہے

یہ چمنِ دنیا کے نظارے تیرے اپنے ہیں

--

--

راستہ

تحریر کتاب میں لکھی ہوئی دیکھی ہے

جلد پہ تصویر بھی بنی ہوئی دیکھی ہے

آئے گی بہار میرے آرزو کے چمن میں

کلی اک امید کی کھلی ہوئی دیکھی ہے

آغاز بھی ہو جائے گا عمارت کی تعمیر کا

اینٹ جو بنیاد کی رکھی ہوئی دیکھی ہے

دیکھتی ہے کمرے کے جو خفیہ مناظر کو

آنکھ وہ دیوار میں لگی ہوئی دیکھی ہے

جھکے ہوئے دیکھا ہے ہر شاخِ ثمردار کو

جو شاخ بے ثمر اٹھی ہوئی دیکھی ہے

پگھل گیا ماحول تو گفتار کی حرارت سے

برف مگر ضد کی جمی ہوئی دیکھی ہے

سوئے ہوئے گھر کا مکین کوئی جاگا ہے

روشنی صحن میں جلی ہوئی دیکھی ہے

نکلا ہے ہمسائے میں اک راستہ محبت کا

نفرت کی دیوار جو گری ہوئی دیکھی ہے

--

--

تلاش

خوشبو پھول کی صحنِ چمن میں تلاش کر لینا

محبتِ انسان کو میرے سخن میں تلاش کر لینا

میرا پیغام یہ فقط محدود نہیں ایک بستی تک

ہر ایک شہر میں ہر ایک وطن میں تلاش کر لینا

کچھ جنگ میں سوائے خوف کے نہیں ملتا ہے

کبھی سکون کو دامنِ امن میں تلاش کر لینا

فرحت فوارء محبتِ انسان سے مل جائے گی

اسے تم موسمِ حبس و گھٹن میں تلاش کر لینا

جسے تخلیق کیا ہے خالق نے فقط محبت کے لئے

کبھی اس دل کو تم اپنے بدن میں تلاش کر لینا

سرء نفرت سے حاصلِ زندگانی چھن جائے تو

اس کو بھی محبت کی دھن میں تلاش کر لینا

پیار عاجزی اخلاص و محبت کے خزانوں کو

یہ سب میری تحریر کی فن میں تلاش کر لینا

--

--

A request

I have received many messages that I have many international money/ funds help money prize money and bones money

But till now I didn’t receive any money

If these messages are true I want receive own international money as legal way via bank account Pakistan

I want spend own money education health and helpless people’s of my country

My wish that I spend own money as best way in life

My date of birth 22 March 1954

I want own right and want justice

My request that people’s Would administration of Google and Medium that my help in this matter

--

--

تلاش

عدل منصفء بے عدل میں تلاش کرتے ہو

کیوں اصل کو تم نقل میں تلاش کرتے ہو

نکلنا راہِ ناکام سے نہیں ممکن تمہارے لئے

عروج کو رہ کر زوال میں تلاش کرتے ہو

فکر لاحق نہیں تمہیں آنے والے وقت کی

وقتِ ماضی کو حال میں تلاش کرتے ہو

موجود آج بھی وہ آنے والے کل میں بھی

جس کو تم گزرے کل میں تلاش کرتے ہو

تیری مہارت کیا برجوں میں سیاروں میں

اثر مریخ کے جو زحل میں تلاش کرتے ہو

نکل چکا ہے دسترس سے تیری سوچوں کی

جس کو اب اپنے خیال میں تلاش کرتے ہو

بقا تمہیں کیوں امن میں نظر نہیں آتی ہے

بقاء انساں جنگ و جدل میں تلاش کرتے ہو

ڈال کر بیج نفرت کے تم اپنے کھیتوں میں

پھل محبت کے اپنی فصل میں تلاش کرتے ہو

--

--

حقوق

کس طرح رکتے میرے سفینے بھی

جو ساتھ ہوں چلتے رہے کنارے بھی

خوف ہیں موسموں کی سازش کے

سہمے ہوئے بیٹھے ہیں پرندے بھی

رات جب چاندنی سے بچھڑی ہے

سوگ میں جگنو بھی ستارے بھی

سر پہ جب سے غم کا سورج آیا ہے

جدا ہوئے جسم تیرے سایے بھی

شبِ غم میں سفر ہے اندھیرے کا

بند ہیں اب خوشی کے رستے بھی

نصیب سے جڑی ہوئی محرومیاں

رفتہ رفتہ ٹوٹے ہیں سہارے بھی

ہم بھی ہیں انسان تیرے ساتھ کے

دنیا میں حقوق ہیں ہمارے بھی

--

--

A request

Once Skrill send me my funds to my bank account Pakistan because I was not member of Google 1 and Medium Google lock my Skrill accounts

Now I am member of Google 1 and Medium there for requested that Google unlock my Skrill accounts so transfer my funds to my bank account Pakistan

--

--

زادِ رہ

سفرِ حیات میں حوصلہ جوان رکھتا ہوں

بہت انمول ہے جو ساتھ سامان رکھتا ہوں

ہوائیں وقت کی چلتی میرے مخالف ہیں

نہیں میں رخ پہ ہوا کے بادبان رکھتا ہوں

دیکھ دیکھ کر بے یہ بے حسی انسانوں کی

چھالے جگر میں اور دردِ زبان رکھتا ہوں

تجھے بھی فخر ہے چاند پہ ستاروں پہ

چراغِ علم میں زمین پر آسمان رکھتا ہوں

آباد میرے دل کا جو باغیچہء محبت ہے

میں رنگ و خوشبو کی پہچان رکھتا ہوں

کوئی بھی راہزن اسے لوٹ نہیں پائے گا

میں زادِ راہ جو محبتِ انسان رکھتا ہوں

--

--

کاشت

تضاد کوئی قول و فعل میں نہیں کرتا ہوں

دکھاوا بھی اپنے عمل میں نہیں کرتا ہوں

خدا پرست ہوں پیار ہے اس کے بندوں سے

تفریق کوئی رنگ و نسل میں نہیں کرتا ہوں

مخالف ہوں جو سوچء امن کے مخالف ہیں

اور حمایت جنگ و جدل میں نہیں کرتا ہوں

نفع ہو نقصان میں لکھنا ترک نہیں کرتا ہوں لکھنے میں تجارت اصل میں نہیں کرتا ہوں

بات جو بھی دل میں ہو برملا وہ کہتا ہوں

میں اپنی زبان کو قفل میں نہیں کرتا ہوں

کام ہیں جو آج کے وہ آج میں ہی کرتا ہوں

کام ہیں جو آج کے کل میں نہیں کرتا ہوں

کھیت ہیں سارے میرے محبتِ انسان کے

نفرتیں کاشت فصل میں نہیں کرتا ہوں

--

--

Ali Qadar Rajaaliqadar

Ali Qadar Rajaaliqadar

Ali Qadar son of Muhammad Zar khan village Gorsian tehsil Sohawa district Jhelum Pakistan . Phone number+923215614519 aliqadarraja@gmail.com